المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الأحكام باب: احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي عُروة ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ هِنْدًا بِنْتَ عُتْبَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، وَلا يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينَا إِلا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لا يَعْلَمُ ، قَالَ : " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! ابو سفیان کنجوس ہیں، مجھے اور بچوں کو اتنا خرچ نہیں دیتے جو ہمیں پورا ہو جائے، الا یہ کہ میں ان کے مال سے خفیہ طور پر لے لوں۔ آپ نے فرمایا: آپ معروف طریقے سے اتنا مال لے لیا کریں جو آپ کو اور آپ کے بچوں کو کافی ہو جائے۔