حدیث نمبر: 1021
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلاهُمَا النَّخْلَ ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ : سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ " ، فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجِذْرِ " ، وَاسْتَوْعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْيٍ أَرَادَ فِيهِ السَّعَةَ لِلزُّبَيْرِ وَلِلأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : مَا أَحْسَبُ هَذِهِ الآيَةَ إِلا نزلت فِي ذَلِكَ : فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65 الآيَةَ ، وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْقِصَّةِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور ایک انصاری آدمی جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوا تھا، حرہ (مدینہ کے قریب ایک جگہ) کی نالیوں کے بارے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جن سے وہ دونوں اپنی کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے، انصاری کہتا تھا: پانی کو بہنے دیا کریں، روکا نہ کریں، جب کہ (سیدنا زبیر) اس کا انکار کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! کھیتی سیراب کرنے کے بعد پانی اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دیا کریں۔ انصاری ناراض ہو کر کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، اس لیے آپ نے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ (غصے سے) بدل گیا، پھر فرمایا: زبیر! کھیتی کو سیراب کر کے پانی کو روکے رکھنا حتیٰ کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر کو پورا پورا حق دیا، جب کہ پہلے آپ نے سیدنا زبیر کو اپنی طرف سے ایسا مشورہ دیا تھا، جس میں سیدنا زبیر اور انصاری دونوں کے لیے گنجائش موجود تھی، سیدنا زبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ (النساء: 65) (اللہ کی قسم! یہ مؤمن نہیں ہو سکتے حتیٰ کہ آپ کو اپنے جھگڑوں میں فیصلہ تسلیم کر لیں۔) ایک راوی نے دوسرے کی نسبت لمبا واقعہ بیان کیا ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1021
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2708، صحیح مسلم : 2357»