حدیث نمبر: 1010
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : ثني عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثُمَّ قَالَ : لَمْ يُحَدِّثْنِي ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ : " كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ ؟ قَالَ : فَنَهَاهُ عَنْهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو إہاب کی بیٹی سے شادی کی، کالے رنگ کی ایک عورت آکر کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے پھر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ موڑ لیا، تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ تیرے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ پس آپ نے اسے اس (بیوی کے ساتھ رہنے) سے منع کر دیا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1010
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2659»