حدیث نمبر: 101
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ ابْنَ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ: سَأَلْتِ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: «أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي وَلَا نُؤْمَرُ بِالْقَضَاءِ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

معاذہ عدویہ رحمہ اللہ بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا حائضہ (فوت شدہ) نمازوں کی قضا دے گی؟ فرمایا: آپ حروریہ (کوفہ کے قریب خوارج کی بستی ) ، تو نہیں؟ ہمیں بھی عہد نبوی میں حیض آتا تھا، نہ تو ہم نمازوں کی قضا دیتیں اور نہ ہی ہمیں قضا کا حکم دیا جاتا ۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطهارة / حدیث: 101
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 321، صحيح مسلم: 335»