حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : إِنَّ هَذَا افْتَرَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِيدَانَ ، فَقَالَ لَهُ : بَيِّنَتُكَ ، قَالَ : لَيْسَ لِي ، قَالَ : يَمِينُهُ ، قَالَ : إِذًا يَذْهَبُ بِهَا ، قَالَ : لَيْسَ لَكَ إِلا ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَامَ يَحْلِفُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظُلْمًا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ دو آدمی آپ کے پاس زمین کا جھگڑا لے کر آئے، ان میں سے ایک جس کا نام امرؤ القیس بن عابس کندی تھا، کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کا مد مقابل ربیعہ بن عیدان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: آپ کے پاس دلیل ہے؟ اس نے کہا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس سے قسم لی جائے گی۔ وہ کہنے لگا: تو وہ زمین لے جائے گا، فرمایا: آپ کے پاس صرف یہی صورت ہے۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زیادتی کرتے ہوئے کسی سے زمین چھین لی، قیامت والے دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اللہ اس سے ناراض ہو گا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1004
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم : 139/224»