حدیث نمبر: 1000
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْد ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دَرَسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْو مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْئًا فَلا يَأْخُذْهُ ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهِ إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قَالَ : فَبَكَى الرَّجُلانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : حَقِّي لأَخِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا إِذْ فَعَلْتُمَا هَذَا ، فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ ، ثُمَّ اسْتَهِمَا ، ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ دو انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جن کے درمیان پرانی وراثت کا جھگڑا تھا، ان دونوں کے پاس دلیل نہیں تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے جھگڑے میرے پاس لے کر آتے ہو، میں بھی ایک انسان ہی ہوں ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ فصیح البیان ہو، میں آپ سے جو سنتا ہوں، اسی کے مطابق فیصلہ کر دیتا ہوں، جس کو میں اس کے بھائی کا کچھ حق دلا دوں، تو وہ نہ لے، کیوں کہ میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں، جسے وہ قیامت کے دن آگ بھڑکانے والے آلے کی صورت میں اپنی گردن میں ڈال کر لائے گا۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں آدمی روتے ہوئے کہنے لگے: میں اپنا حق اپنے بھائی کو دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ ایسے کرنا چاہتے ہیں، تو جائیں اور حق و انصاف کے ساتھ مال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، پھر آپس میں قرعہ اندازی کریں اور دونوں ایک دوسرے کو معاف کر دیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1000
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 6/320، سنن أبي داؤد : 3584، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (9514) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»