حدیث نمبر: 10
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ، وَسَمِعَ كُرَيْبًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَاءٍ فَأَخَذَ مِنْهُ مَاءً فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا يُقَلِّلُهُ وَيُخَفِّفُهُ قَالَ: فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ فَحَوَّلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُصَلِّيَ ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُنَادِي فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ".
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرا، میں نے دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اُٹھے اور مشکیزے سے پانی لے کر ہلکا سا وضو کیا۔ انہوں نے آپ کا وضو انتہائی ہلکا اور مختصر بتایا، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بھی ایسے ہی وضو کیا اور آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر دیا۔ پھر جتنی اللہ تعالیٰ نے چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر سو گئے، حتی کہ خراٹے لینے لگے، پھر آپ کے پاس مؤذن آیا، تو وضو کیے بغیر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطهارة / حدیث: 10
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 138، صحيح مسلم: 763»