کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ( ( ما ودّعک ربّک.... ) ) کے متعلق ( تفسیر سورۃ الضحیٰ ) ۔
حدیث نمبر: 2177
ابوعبداللہ آصف
´اسود بن قیس کہتے ہیں کہ` میں نے سیدنا جندب بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے تو دو تین رات تک نہیں اٹھے پھر ایک عورت ( عوراء بنت حرب ، ابوسفیان کی بہن ابولہب کی بیوی حمالۃ الحطب ) آئی اور کہنے لگی کہ اے محمد ! میں سمجھتی ہوں کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے ( یہ اس شیطاننی نے ہنسی سے کہا ) کیونکہ میں دیکھتی ہوں کہ دو تین رات سے تمہارے پاس نہیں آیا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری ” قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جب کہ وہ سکون کے ساتھ چھا جائے ، تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ ناراض ہوا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 2177