کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ( ( کما بدانا اول خلق .... ) ) کے متعلق ( تفسیر سورۃ انبیاء ) ۔
حدیث نمبر: 2151
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ اے لوگو ! تم اللہ کی طرف ننگے پاؤں بن ختنہ کئے اکٹھے کئے جاؤ گے ” جیسے ہم نے اول بار پیدا کیا ، ویسا ہی دوبارہ پیدا کریں گے ۔ یہ ہمارا وعدہ ہے جس کو ہم کرنے والے ہیں “ ( 104 ) خبردار رہو ! تمام مخلوقات میں سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو قیامت کے دن کپڑے پہنائے جائیں گے ، اور آگاہ رہو کہ میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے پھر ان کو بائیں ( کافروں کی ) طرف ہٹا دیا جائے گا ۔ میں کہوں گا کہ اے میرے مالک ! یہ تو میرے ماننے والے ہیں ۔ جواب میں کہا جائے گا کہ تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا نئے کام کئے ۔ پس میں وہی کہوں گا جو نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا کہ ” میں تو ان لوگوں پر اس وقت تک گواہ تھا جب تک ان میں موجود تھا ۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ان پر نگہبان تھا ( اور مجھے ان کا علم نہ رہا ) اور تو ہر چیز پر گواہ ہے ( یعنی تیرا علم سب جگہ ہے ) ۔ اگر تو ان کو عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے “ ( المائدہ : 117-118 ) پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہارے جدا ہونے کے بعد یہ لوگ مرتد ہو گئے یعنی دین سے پھر گئے ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 2151