کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ( ( وانذرھم یوم الحسرۃ ) ) کے متعلق ( تفسیر سورۃ مریم ) ۔
حدیث نمبر: 2149
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن موت ایک سفید مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی اور اس کو دوزخ اور جنت کے درمیان میں ٹھہرا دیا جائے گا ۔ پھر کہا جائے گا کہ اے جنت والو ! کیا تم اس کو پہچانتے ہو ؟ وہ اپنا سر اٹھا کر کہیں گے اور اس کو دیکھیں گے اور کہیں گے کہ ہاں ! ہم پہچانتے ہیں ، یہ موت ہے ۔ پھر کہا جائے گا کہ اے دوزخ والو ! کیا تم اس کو پہچانتے ہو ؟ وہ بھی سر اٹھا کر اس کو دیکھیں گے اور کہیں گے کہ ہاں ! ہم اس کو پہچانتے ہیں ، یہ موت ہے ۔ پھر حکم ہو گا تو وہ مینڈھا ذبح کیا جائے گا ، پھر کہا جائے گا کہ اے جنت والو ! تمہیں ہمیشہ رہنا ہے اور کبھی موت نہیں ہے اور اے دوزخ والو ! تمہیں بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہے اور تمہارے لئے بھی کبھی موت نہیں ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ” اور ان کو حسرت کے دن سے ڈراؤ جب فیصلہ ہو جائے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور یقین نہیں کرتے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ کیا ( یعنی دنیا میں ایسے مشغول ہیں کہ قیامت کا ڈر نہیں ہے ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 2149