کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے علاوہ کسی سے قرآن سننا ۔
حدیث نمبر: 2119
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم میرے سامنے قرآن پڑھو ۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے قرآن پڑھوں ؟ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی پر تو اترا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں اور سے سنوں ۔ پھر میں نے سورۃ نساء پڑھی ، یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا ( ( فکیف اذا جئنا ) ) ( النساء : 41 ) تو میں نے سر اٹھایا یا مجھے کسی نے چٹکی لی تو میں نے سر اٹھایا اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 2119
حدیث نمبر: 2120
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں حمص میں تھا کہ لوگوں نے مجھ سے قرآن سنانے کو کہا ۔ میں نے سورۃ یوسف پڑھی ۔ ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم ! ایسا نہیں اترا ۔ میں نے کہا کہ تیری خرابی ہو ، اللہ کی قسم ! میں نے تو یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پڑھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے خوب پڑھا ۔ غرض میں اس سے بات کر ہی رہا تھا کہ میں نے اس سے شراب کی بو پائی ۔ میں نے کہا کہ تو شراب پیتا ہے اور اللہ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے ؟ تو جانے نہ پائے گا جب تک میں تجھے حد نہ مار لوں گا ۔ پھر میں نے اسے ( شراب کی حد کے ) کوڑے مارے ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 2120