حدیث نمبر: 2076
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوعبدالرحمن حبلی کہتے ہیں کہ` میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہم فقیر مہاجرین میں سے نہیں ہیں ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تیری بیوی ہے جس کے پاس تو رہتا ہے ؟ وہ بولا کہ ہاں ہے ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تیرا گھر ہے جس میں تو رہتا ہے ؟ وہ بولا کہ ہاں ہے ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو امیروں میں سے ہے ۔ وہ بولا کہ میرے پاس ایک خادم بھی ہے ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے ۔ ابوعبدالرحمن نے کہا کہ تین آدمی سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور میں ان کے پاس موجود تھا ۔ وہ کہنے لگے کہ اے محمد ! اللہ کی قسم ! ہمیں کوئی چیز میسر نہیں ، نہ خرچ ، نہ سواری اور نہ اسباب ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جو چاہو میں کروں ۔ اگر چاہتے ہو تو ہمارے پاس چلے آؤ ، ہم تمہیں وہ دیں گے جو اللہ نے تمہاری تقدیر میں لکھا ہے اور اگر کہو تو ہم تمہارا ذکر بادشاہ سے کریں اور اگر چاہو تو صبر کرو ، اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ محتاج مہاجرین مالداروں سے چالیس برس پہلے ( جنت میں ) جائیں گے ۔ وہ بولے کہ ہم صبر کرتے ہیں اور کچھ نہیں مانگتے ۔