کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: قیامت کے دن انسان کے اعمال کے متعلق اس کے اعضاء کی گواہی ۔
حدیث نمبر: 1933
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ میں کس واسطے مسکرایا ہوں ؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بندے کی اس گفتگو کی وجہ سے مسکرایا ہوں جو وہ اپنے مالک سے کرے گا ۔ بندہ کہے گا کہ اے میرے مالک ! کیا تو مجھے ظلم سے پناہ نہیں دے چکا ہے ؟ ( یعنی تو نے وعدہ کیا ہے کہ ظلم نہ کروں گا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ ہاں ! ہم ظلم نہیں کرتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بندہ کہے گا کہ میں کسی کی گواہی کو اپنے اوپر سوائے اپنی ذات کے جائز نہیں رکھتا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اچھا ! تیری ہی ذات کی گواہی تجھ پر آج کے دن کفایت کرتی ہے ۔ اور کراماً کاتبین کی گواہی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بندہ کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء ( ہاتھ پاؤں ) کو حکم ہو گا کہ بولو ۔ وہ اس کے سارے اعمال بول دیں گے ۔ پھر بندہ کو بات کرنے کی اجازت دی جائے گی تو بندہ اپنے اعضاء ( ہاتھ پاؤں ) سے کہے گا کہ چلو دور ہو جاؤ ، تم پر اللہ کی مار ، میں تو تمہارے لئے جھگڑا کرتا تھا ( یعنی تمہارا ہی دوزخ سے بچانا مجھے منظور تھا ۔ پس تم آپ ہی گناہ کا قرار کر چکے ، اب دوزخ میں جاؤ ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1933