کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: جس نے سو آدمی قتل کئے تھے اس کی توبہ قبول ہونا ۔
حدیث نمبر: 1919
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا ، جس نے ننانوے قتل کئے تھے ۔ اس نے پوچھا کہ زمین کے لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے ؟ لوگوں نے ایک راہب کے بارے میں بتایا ، وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے ننانوے قتل کئے ہیں ، کیا اس کے لئے توبہ ہے ؟ راہب نے کہا کہ نہیں ! ( تیری توبہ قبول نہ ہو گی ) تو اس نے اس راہب کو بھی مار ڈالا اور سو قتل پورے کر لئے ۔ پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ زمین میں سب سے زیادہ عالم کون ہے ؟ لوگوں نے ایک عالم کے بارے میں بتایا ( تو وہ اس کے پاس گیا ) اور پوچھا کہ اس نے سو قتل کئے ہیں ، کیا اس کے لئے توبہ ہے ؟ وہ بولا کہ ہاں ہے اور توبہ کرنے سے کون سی چیز مانع ہے ؟ تو فلاں ملک میں جا اور وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ، تو بھی جا کر ان کے ساتھ عبادت کر اور اپنے ملک میں مت جا کہ وہ برا ملک ہے ۔ پھر وہ اس ملک کی طرف چلا ، جب آدھا سفر طے کر لیا تو اس کو موت آ گئی ۔ اب عذاب کے فرشتوں اور رحمت کے فرشتوں میں جھگڑا ہوا ۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کر کے صدق دل کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو کر آ رہا تھا ۔ اور عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کوئی نیکی نہیں کی ۔ آخر ایک فرشتہ آدمی کی صورت بن کر آیا اور انہوں نے اس کو فیصلہ کرنے کے لئے مقرر کیا ۔ اس نے کہا کہ دونوں طرف کی زمین ناپو اور جس ملک کے قریب ہو ، وہ وہیں کا ہے ۔ سو انہوں نے زمین کو ناپا تو انہوں نے اس زمین کو قریب پایا جس کا اس نے ارادہ کیا تھا ، پس رحمت کے فرشتے اس کو لے گئے ۔ قتادہ نے کہا ( راوی حدیث ) حسن نے کہا کہ ہم سے یہ بھی بیان ہوا کہ جب وہ مرنے لگا تو اپنے سینہ کے بل بڑھا ( تاکہ اس ملک سے نزدیک ہو جائے ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1919