حدیث نمبر: 1914
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کو چھینک آئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہ دیا ۔ جس کو جواب نہ دیا تھا ، اس نے کہا کہ اس کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ، لیکن مجھے چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے ( یعنی جس کا جواب دیا ) ” الحمدللہ “ کہا تھا اور تو نے ” الحمدللہ “ نہ کہا ( اس لئے جواب نہ دیا ) ۔
حدیث نمبر: 1915
ابوعبداللہ آصف
´ایاس بن سلمہ سے روایت ہے کہ` ان کے والد ( سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( ( ” یرحمک اللہ “ ) ) ۔ پھر اسے ( دوبارہ ) چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو زکام ہو گیا ہے ۔ ( یعنی اگر کسی کو زکام سے چھینکیں آ رہی ہوں تو اس کو کہاں تک ( ( ” یرحمک اللہ “ ) ) کہیں گے ) ۔