کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: اونچی آواز کے ساتھ ذکر کرنے کا بیان ۔
حدیث نمبر: 1893
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ لوگ بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنی جانوں پر نرمی کرو ( یعنی آہستہ سے ذکر کرو ) ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے ہو بلکہ تم اس کو پکارتے ہو جو ( ہر جگہ سے ) سنتا ہے ، نزدیک ہے اور تمہارے ساتھ ہے ( یعنی علم اور احاطہٰ سے ) ۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا اور میں لا حول ولا قوّۃ الاّ باﷲ کہہ رہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبداللہ بن قیس ! میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتلاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! بتلائیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہہ لا حول ولا قوّۃ الاّ باﷲ ( یہ کلمہ ہے تفویض کا اور اس میں اقرار ہے کہ اور کسی کو نہ طاقت ہے نہ قدرت ، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1893