کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: ( قبیلہ ) ” مزینہ “ ، ” جہینہ “ اور ” غفار “ کی فضیلت ۔
حدیث نمبر: 1734
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ حاجیوں کو لوٹنے والے ( قبائل ) اسلم ، غفار ، مزینہ اور جہینہ کے لوگوں نے بیعت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ( قبیلہ ) اسلم ، غفار ، مزینہ اور جہینہ قبائل بنی تمیم ، بنی عامر ، اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو یہ لوگ ( یعنی بنی تمیم وغیرہ ) خسارے میں رہے اور نامراد ہوئے ) ؟ وہ بولا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، وہ ان سے بہتر ہے ( یعنی قبیلہ اسلم اور غفار وغیرہ قبیلہ بنی تمیم وغیرہ سے بہتر ہیں ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1734