حدیث نمبر: 1711
ابوعبداللہ آصف
´ابوزمیل کہتے ہیں کہ` مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور کہا کہ مسلمان ابوسفیان کی طرف دھیان نہ کرتے تھے اور نہ اس کے ساتھ بیٹھتے تھے ( کیونکہ ابوسفیان کئی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑا تھا اور مسلمانوں کا سخت دشمن تھا ) ۔ ایک بار وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بولا کہ اے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تین باتیں مجھے عطا فرمائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ۔ ابوسفیان نے کہا کہ میرے پاس وہ عورت ہے کہ تمام عربوں میں حسین اور خوبصورت ہے ، ام حبیبہ میری بیٹی ، میں اس کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا ۔ دوسری یہ کہ میرے بیٹے معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا منشی بنائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ۔ تیسرے مجھ کو کافروں سے لڑنے کا حکم دیجئیے ( جیسے اسلام سے پہلے ) مسلمانوں سے لڑتا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ۔ ابوزمیل نے کہا کہ اگر وہ ان باتوں کا سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ دیتے اس لئے کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی ) کہ جب آپ سے کوئی سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاں ہی کرتے تھے ۔