کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: ستاروں کے ذریعے شیطانوں پر حملے کے متعلق جبکہ وہ ( فرشتوں سے ) چوری سنتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 1495
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مجھ سے ایک انصاری صحابی نے ( ایک روایت میں ہے کہ کچھ صحابہ نے ) بیان کیا کہ وہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک ستارہ ٹوٹا اور بہت چمکا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جاہلیت کے زمانہ میں ایسا واقعہ ہوتا تھا تو تم اسے کیا کہتے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں ، ہم جاہلیت کے زمانے میں یوں کہتے تھے کہ آج کی رات کوئی بڑا شخص پیدا ہوا ہے یا فوت ہوا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ستارہ کسی کے مرنے یا پیدا ہونے کے لئے نہیں ٹوٹتا ، لیکن ہمارا مالک جل جلالہ جب کچھ حکم دیتا ہے تو عرش کے اٹھانے والے فرشتے تسبیح کہتے ہیں ، پھر ان کی آواز سن کر ان کے پاس والے آسمان کے فرشتے تسبیح کہتے ہیں ، یہاں تک کہ تسبیح کی نوبت آسمان دنیا والوں تک پہنچتی ہے ۔ پھر جو لوگ عرش اٹھانے والے فرشتوں سے قریب ہیں ، وہ ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا حکم دیا ؟ وہ بیان کرتے ہیں ۔ اسی طرح آسمان والے ایک دوسرے سے دریافت کرتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ خبر آسمان دنیا والوں تک آتی ہے ۔ ان سے وہ خبر جن اڑا لیتے ہیں اور اپنے دوستوں کو آ کر سناتے ہیں ۔ فرشتے جب ان جنوں کو دیکھتے ہیں تو ان ستاروں سے مارتے ہیں ( تو یہ ستارے ان کے کوڑے ہیں ) پھر جو خبر جن لاتے ہیں ، اگر اتنی ہی کہیں تو سچ ہے لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور زیادہ کرتے ہیں ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1495