حدیث نمبر: 1171
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کعب بن اشرف ( کے قتل ) کا کون ذمہ لیتا ہے ؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی تکلیف دی ہے ۔ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہے کہ میں اسے مار ڈالوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تو انہوں نے عرض کیا کہ مجھے اجازت دیجئیے تاکہ میں کچھ بات بناؤں ( جھوٹ بولوں ) ۔ آپ نے فرمایا کہ تجھے اختیار ہے ۔ چنانچہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے صدقہ مانگا ہے اور اس نے تو ہمیں تنگ کر رکھا ہے ۔ کعب نے کہا کہ ابھی کیا ہے ، اللہ کی قسم آگے چل کر تم کو بہت تکلیف ہو گی ۔ وہ بولے کہ خیر اب تو ہم اس کا اتباع کر چکے ہیں اب ایک دم چھوڑنا تو اچھا نہیں لگتا ، مگر دیکھ رہے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ خیر میں تیرے پاس کچھ قرض لینے آیا ہوں ۔ کعب بن اشرف نے کہا کہ میرے پاس کچھ گروی رکھ دو ۔ انہوں نے کہا کہ تم کیا چیز گروی رکھنا چاہتے ہو ؟ کعب نے کہا تم میرے پاس اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو ۔ انہوں نے جواب دیا ہم تیرے پاس عورتوں کو کیسے گروی رکھ دیں ؟ کیونکہ تو عرب کا بےانتہا خوبصورت ہے ۔ کعب بولا کہ اپنے بیٹوں کو میرے پاس گروی رکھ دو ۔ وہ بولے بھلا ہم انہیں کیونکر گروی رکھ دیں ؟ کل کو انہیں طعنہ دیا جائے گا کہ فلاں دو وسق کھجور کے عوض گروی رکھا گیا تھا ۔ لیکن ہم تیرے پاس ہتھیار رکھ دیں گے اس نے کہا ٹھیک ہے ۔ پس انہوں نے کعب سے وعدہ کیا کہ وہ حارث ، ابی عبس بن جبر اور عباد بن بشر کو بھی ساتھ لائے گا ۔ راوی نے کہا کہ وہ رات کو آئے اور کعب کو بلایا ۔ وہ قلعہ سے نیچے اتر کر ان کے پاس آنے لگا ۔ اس کی بیوی نے پوچھا کہ تم اس وقت کہاں جا رہے ہو ؟ کعب نے جواب دیا کہ محمد بن مسلمہ ( رضی اللہ عنہ ) اور میرا بھائی ابونائلہ مجھے بلا رہے ہیں ( ڈرنے کی کوئی بات نہیں ) عورت بولی کہ اس آواز سے تو گویا خون ٹپک رہا ہے ۔ کعب نے کہا یہ صرف میرا دوست محمد بن مسلمہ ( رضی اللہ عنہ ) اور میرا دودھ شریک بھائی ابونائلہ ہے اور عزت والے آدمی کو تو اگر رات کے وقت نیزہ مارنے کے لئے بھی بلایا جائے تو وہ فوراً منظور کر لے ۔ ادھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ( دو اور آدمیوں کو ساتھ لائے تھے ) ۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب کعب بن اشرف آئے گا ، تو میں اس کے بال پکڑ کر سونگھوں گا ، جب تم دیکھو کہ میں نے اس کے سر کو مضبوط پکڑ لیا ہے ، تو تم جلدی سے اسے مار دینا ۔ جب کعب ان کے پاس چادر سے سر لپیٹے ہوئے آیا اور خوشبو کی مہک اس میں پھیل رہی تھی ، تب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تیرے پاس سے کیسی بہترین خوشبو آ رہی ہے ۔ کعب نے جواب دیا کہ ہاں ! میری بیوی عرب کی سب سے زیادہ معطر رہنے والی عورت ہے ۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا مجھے اپنا سر سونگھنے کی اجازت دیتے ہو ؟ اس نے کہا ہاں کیوں نہیں ۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے سونگھا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پھر ( دوبارہ سونگھنے کی ) اجازت ہے ؟ اس نے کہا ہاں ہے ۔ چنانچہ جب سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسے مضبوط پکڑ لیا ، تب انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس کو مارو ، چنانچہ انہوں نے کعب بن اشرف کو مار ڈالا ۔