کتب حدیث ›
مختصر صحيح مسلم › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ( ( ولا تحسبنّ الّذین قتلوا فی سبیل اﷲ .... ) ) کے متعلق اور شہداء کی روحوں کا بیان ۔
حدیث نمبر: 1068
ابوعبداللہ آصف
´مسروق کہتے ہیں کہ` ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے اس آیت ” ان لوگوں کو مردہ مت سمجھو جو اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، روزی دئیے جاتے ہیں “ کے بارے میں پوچھا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ ہم نے اس آیت کے بارے میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہیدوں کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں قندیلوں کے اندر ہیں ، جو عرش مبارک سے لٹک رہی ہیں اور جہاں چاہتے ہیں جنت میں چگتے پھرتے ہیں ، پھر اپنی قندیلوں میں آ رہتے ہیں ۔ ایک دفعہ ان کے پروردگار نے ان کو دیکھا اور فرمایا کہ تم کچھ چاہتی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ اب ہم کیا چاہیں گی ؟ ہم تو جنت میں جہاں چاہتی ہیں چگتی پھرتی ہیں تو پروردگار جل وعلا نے تین دفعہ پوچھا ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر مانگے ہماری رہائی نہیں ( یعنی پروردگار جل جلالہ برابر پوچھے جاتا ہے ) تو انہوں نے کہا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم یہ چاہتی ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے بدنوں میں پھیر دے ( یعنی دنیا کے بدنوں میں ) تاکہ ہم دوبارہ تیری راہ میں مارے جائیں ۔ جب ان کے رب نے دیکھا کہ اب ان کو کوئی خواہش نہیں ، تو ان کو چھوڑ دیا ۔