کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: حاکم ، قاضی جھگڑا کرنے والوں کے درمیان اصلاح کرائے ۔
حدیث نمبر: 1058
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک شخص نے دوسرے شخص سے زمین خریدی ، پھر جس نے زمین خریدی تھی اس نے سونے کا ایک مٹکا ( برتن ) اس میں پایا ۔ خریدنے والا ( بیچنے والے سے ) کہنے لگا کہ تو اپنا سونا لے لے ، میں نے تجھ سے زمین خریدی تھی ، سونا نہیں خریدا تھا ۔ اور بیچنے والے نے کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ زمین اور جو کچھ اس میں تھا بیچا تھا ( تو سونا بھی تیرا ہے ۔ سبحان اللہ بائع اور مشتری دونوں کیسے خوش نیت اور ایماندار تھے ) راوی کہتا ہے کہ پھر دونوں نے ایک شخص سے فیصلہ چاہا ، وہ بولا کہ تمہاری اولاد ہے ؟ ایک نے کہا کہ میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے ۔ اس نے کہا کہ اچھا اس کے لڑکے کا نکاح اس کی لڑکی سے کر دو اور اس سونے کو دونوں پر خرچ کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں بھی دو ۔ ( غرض صلح کرا دی اور یہ مستحب ہے تاکہ دونوں خوش رہیں ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1058