حدیث نمبر: 900
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں اپنے غلام کو پیٹ رہا تھا کہ اتنے میں میں نے پیچھے سے ایک آواز سنی ، کہ ابومسعود ! جان لو بیشک اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تو اس غلام پر رکھتا ہے ۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ اللہ کے لئے ( یعنی بلا کسی قیمت و شرط ) آزاد ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو ایسا نہ کرتا تو جہنم کی آگ تجھے جلا دیتی یا تجھ سے لگ جاتی ۔
حدیث نمبر: 901
ابوعبداللہ آصف
´زاذان سے روایت ہے کہ` سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کی پیٹھ پر نشان دیکھا تو پوچھا کہ کیا میں نے تجھے تکلیف دی ؟ اس نے کہا نہیں ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تو آزاد ہے ۔ پھر زمین پر سے کوئی چیز اٹھائی اور کہا کہ اس کے آزاد کرنے میں مجھے اتنا بھی ثواب نہیں ملا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جو شخص غلام کو بن کئے حد لگا دے ( یعنی ناحق مارے ) یا طمانچہ لگائے تو اس کا کفارہ ( یعنی اتار ، جرمانہ ) یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے ۔
حدیث نمبر: 902
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ان کی لونڈی کو ایک آدمی نے طمانچہ مارا تو سیدنا سوید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ منہ پر مارنا حرام ہے ؟ اور مجھے دیکھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہم سات بھائیوں کے پاس صرف ایک خادم تھا ، بھائیوں میں سے ایک نے اسے طمانچہ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آزاد کرنے کا حکم دیا ۔