کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: ولاء اس کے لئے ہے جس نے آزاد کیا ۔
حدیث نمبر: 896
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` بریرہ میرے پاس آئی اور کہا کہ میرے مالکوں نے میرے ساتھ نو اوقیہ پر مکاتبت کی ہے ، ہر برس میں ایک اوقیہ ۔ پس تم میری مدد کرو ۔ میں نے کہا کہ اگر تمہارے مالک راضی ہوں تو میں یہ ساری رقم یکمشت دے دیتی ہوں اور تمہیں آزاد کر دیتی ہوں ، لیکن تمہاری ولاء میں لوں گی ۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر اپنے مالکوں سے کیا تو انہوں نے نہ مانا اور یہ کہا کہ ولاء ہم لیں گے ۔ پھر بریرہ میرے پاس آئی اور یہ بیان کیا تو میں نے اس کو جھڑکا ، اس نے کہا اللہ کی قسم یہ نہ ہو گا ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا اور مجھ سے پوچھا ، تو میرے سب حال بیان کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو خرید لے اور آزاد کر دے اور ولاء کی شرط انہی کے لئے کر لے کیونکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا ۔ میں نے ایسا ہی کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کو خطبہ پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی جیسے اس کو لائق ہے ، پھر اس کے بعد فرمایا کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ وہ شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں ۔ جو شرط اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہے وہ باطل ہے اگرچہ سو بار شرط کی گئی ہو ۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب زیادہ حقدار ہے اور اللہ کی شرط مضبوط ہے ۔ تم میں سے بعض لوگوں کا یہ حال ہے کہ دوسرے سے کہتے ہیں کہ تم ( غلام یا باندی کو ) آزاد کرو اور ولاء ہم لیں گے حالانکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 896