کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: عورت کا حق یہ ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مال سے معروف طریق پر اس کے اہل و عیال پر خرچ کرے ۔
حدیث نمبر: 887
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہند ( ابوسفیان کی بیوی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا کہ یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم پوری زمین کی پیٹھ پر کوئی ایسے گھر والے نہ تھے ، جن کے متعلق مجھے یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کو ذلیل کر دے ، سوائے آپ کے گھر والوں کے ( لیکن اب ) پوری زمین کی پشت پر ایسے گھر والے نہیں ہیں جن کا عزت والا ہو جانا مجھے زیادہ پسند ہو ، سوائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! ہاں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ پھر ہندہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ابوسفیان ( رضی اللہ عنہ ) کنجوس آدمی ہیں ۔ اگر میں اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے کچھ اس کے اہل و عیال پر خرچ کروں تو مجھ پر گناہ تو نہیں ہو گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اچھے طریقے کے ساتھ ( فضول خرچی سے بچ کر اس کے اہل و عیال پر ) خرچ کرے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 887