حدیث نمبر: 883
ابوعبداللہ آصف
´ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بنوعذرہ کے ایک شخص نے اپنا غلام آزاد کیا مدبر بنا دیا ( یعنی کہا کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے ) ۔ اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے پاس اس کے سوا اور مال ہے ؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اعلان ) فرمایا کہ اس کو مجھ سے کون خریدتا ہے ؟ تو نعیم بن عبداللہ العدوی نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور درہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لا کر دیئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کے مالک کو اسے دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو ۔ پھر اگر بچے تو اپنے گھر والوں پر ، پھر بچے تو اپنے ناطے والوں پر ، پھر بچے تو ادھر ادھر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے اور دائیں اور بائیں اشارہ کرتے تھے ۔ ( یعنی صدقہ کر دے )