کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: جو سفر سے آئے تو گھر میں جلدی داخل ہونے کی کوشش نہ کرے تاکہ ( اس کی ) عورت بالوں ( وغیرہ ) کو سنوار لے ۔
حدیث نمبر: 847
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم ایک جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ پھر جب لوٹ آ رہے تھے تو میں اپنے اونٹ کو جو کہ بڑا سست تھا ، جلدی جلدی چلا رہا تھا کہ ایک سوار میرے پیچھے سے آیا اور میرے اونٹ کو اپنی چھڑی سے ایک کونچا دیا ، جو ان کے پاس تھی اور میرا اونٹ ایسے چلنے لگا کہ کہ جیسے تم کوئی بہت اچھا اونٹ دیکھتے ہو ۔ میں نے پھر کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے جابر ! تمہیں کیا جلدی ہے ؟ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باکرہ سے یا ثیبہ سے ؟ میں نے کہا ثیبہ سے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باکرہ سے کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ۔ پھر جب ہم مدینہ آئے اور گھر داخل ہونے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ رات آ جائے یعنی عشاء کا وقت ، تاکہ پریشان بالوں والی سر میں کنگھی ( وغیرہ ) کر لے اور جس کا شوہر باہر گیا ہوا ہو وہ زیر ناف بال صاف کر لے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب گھر جاؤ تو سمجھ داری سے کام لینا ۔ ( یہ نہ ہو کہ عورت ایام حیض میں ہو اور تم اتنے دنوں بعد آئے ہو اور صبر نہ کر سکو ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 847