حدیث نمبر: 675
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے اور کسی نے عمرہ کا اور کسی نے حج کا احرام باندھا ۔ جب مکہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور قربانی نہیں لایا ، وہ احرام کھول ڈالے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور قربانی لایا ہے ، وہ نہ کھولے جب تک قربانی ذبح نہ کر لے اور جس نے حج کا احرام باندھا ہے وہ حج پورا کرے ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی اور عرفہ کے دن تک حائضہ رہی ۔ اور میں صرف نے عمرہ کا احرام باندھا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھنے کا حکم دیا ۔ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا ۔ جب حج کر چکے تو میرے ساتھ عبدالرحمن ( بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ) کو بھیجا کہ میں تنعیم سے ( احرام باندھ کر ) عمرہ کر آؤں ، وہ عمرہ جس کو میں نے پورا نہیں کیا تھا اور اس کا احرام کھولنے سے قبل حج کا احرام باندھ لیا تھا ۔