کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: حج کا تلبیہ مکہ سے پکارنے کا بیان ۔
حدیث نمبر: 660
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے حج مفرد کو آئے ، ( شاید ان کا اور بعض صحابہ کا احرام ایسا ہی ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو قارن تھے ) اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرہ کے احرام کے ساتھ آئیں ، یہاں تک کہ جب ( مقام ) سرف میں پہنچے تو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں ۔ پھر جب ہم مکہ میں آئے اور کعبہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کی سعی کی ، تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا کہ جس کے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے ( یعنی حلال ہو جائے ) تو ہم نے کہا کہ کیسا حلال ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مکمل حلال ہو جانا ، تو پھر ہم نے احرام بالکل کھول دیا ۔ راوی نے کہا کہ پھر ہم نے اپنی عورتوں سے جماع کیا ، خوشبو لگائی اور کپڑے پہنے اور اس وقت ہمارے اور عرفہ میں چار راتوں کا فرق باقی تھا ۔ پھر ترویہ کے دن ( یعنی ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ ) کو ( حج کیلئے ) احرام باندھا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتے ہوئے پایا ، تو پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں حائضہ ہو گئی ہوں اور لوگ احرام کھول چکے ہیں ، اور میں نہ تو احرام کھول سکی ، نہ طواف کر سکی ، اب لوگ حج کو جا رہے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ایک چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی سب بیٹیوں پر لکھ دی ہے ، پس تم غسل کرو ( یعنی احرام کے لئے ) اور حج کا احرام باندھ لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا اور وقوف کی جگہوں میں وقوف کیا ، یہاں تک کہ جب پاک ہوئیں تو بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں اپنے دل میں ایک بات پاتی ہوں کہ میں نے طواف ( یعنی طواف قدوم ) نہیں کیا جب تک حج سے فارغ نہ ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ( بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ) ! ان کو تنعیم میں لے جا کر عمرہ کرا لاؤ ۔ یہ معاملہ اس شب کو ہوا جب محصب میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 660