حدیث نمبر: 638
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا زر بن حبیش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمہارے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو سال بھر تک جاگے گا ، اس کو شب قدر ملے گی تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے ، یہ کہنے سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگ ایک ہی رات پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں ( بلکہ ہمیشہ عبادت میں مشغول رہیں ) ورنہ وہ خوب جانتے تھے کہ وہ رمضان میں ، آخری عشرہ میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے ۔ پھر انہوں نے بغیر انشاءاللہ کہے قسم اٹھا کر کہا کہ کہ وہ ستائیسویں رات ہے ۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابومنذر ! تم یہ دعویٰ کس بنا پر کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ایک نشانی یا علامت کی وجہ سے جس کی خبر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ، وہ یہ کہ اس کی صبح کو آفتاب جو نکلتا ہے تو اس میں شعاع نہیں ہوتی ( مگر یہ علامت اس رات کے ختم ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے ) ۔