کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: آرام پانے والے اور جس سے لوگوں کو آرام ملے ، اس بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے اس کا بیان ۔
حدیث نمبر: 466
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا : خود آرام پانے والا ہے اور اس کے جانے سے اور لوگوں نے آرام پایا ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ خود آرام پانے والا ہے اور لوگوں کو اس سے آرام ہو گا ، کا مطلب کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن دنیا کی تکلیفوں سے آرام پاتا ہے ( یعنی موت کے وقت ) اور بد آدمی کے جانے سے بندے ، شہر ، درخت اور جانور آرام پاتے ہیں ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 466