حدیث نمبر: 445
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے اور بہت دیر تک قیام کیا ۔ پھر رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا ۔ پھر سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے اور بہت قیام کیا مگر پہلے قیام سے کم ، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم ، پھر سجدہ کیا ( یہ ایک رکعت میں دو رکوع ہوئے اور امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے ) پھر کھڑے ہوئے اور دیر تک قیام کیا مگر پہلے قیام سے کم ، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم ، پھر سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے مگر پہلے قیام سے کم ، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم ( یہ بھی دو رکوع ہوئے ) پھر سجدہ کیا اور فارغ ہوئے اور آفتاب اتنے میں کھل گیا تھا ۔ پھر لوگوں پر خطبہ پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اور انہیں گرہن کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا ۔ پھر جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو اور اس سے دعا کرو اور نماز پڑھو اور خیرات کرو ۔ اے امت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہیں اس بات میں کہ اس کا غلام یا باندی زنا کرے ۔ اے امت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اللہ کی قسم ! جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے ہوتے تو بہت روتے اور تھوڑا ہنستے ۔ سن لو ! کیا میں نے اللہ کا حکم پہنچا نہیں دیا ؟
حدیث نمبر: 446
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دو رکعت نماز ) آٹھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی ۔