کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: بچیاں ( بچے ) عید میں کیا کہیں ؟
حدیث نمبر: 432
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے تشریف فرما ہوئے اور میرے پاس دو ( نابالغ ) لڑکیاں بعاث کی لڑائی کے گیت گا رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچھونے پر لیٹ گئے اور اپنا منہ ان کی طرف سے پھیر لیا ۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور مجھے جھڑکا کہ شیطان کی تان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ ان کو چھوڑ دو ( یعنی گانے دو ) پھر جب وہ غافل ہو گئے تو میں نے ان دونوں کو اشارہ کیا تو وہ نکل گئیں ۔ وہ عید کا دن تھا اور سودانی ( حبشی ) ڈھالوں اور نیزوں سے کھیلتے تھے ، سو مجھے یاد نہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش کی تھی یا انہوں نے خود فرمایا کہ کیا تم اسے دیکھنا چاہتی ہو ؟ میں نے کہا کہ ہاں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اے اولاد ارفدہ ! تم اپنے کھیل میں مشغول رہو ۔ یہاں تک کہ جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بس ؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا جاؤ ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 432