حدیث نمبر: 417
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک مرد غریب ( مسافر ) اپنا دین دریافت کرنے کو آیا ہے اور نہیں جانتا ہے کہ اس کا دین کیا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑ کر میرے پاس تک آ گئے اور ایک کرسی لائی گئی ، میں سمجھتا ہوں کہ اس کے پائے لوہے کے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے ( معلوم ہوا کہ کرسی پر بیٹھنا منع نہیں ) اور مجھے سکھانے لگے جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر خطبہ کو تمام کیا ۔ ( یہ کمال خلق تھا اور معلوم ہوا کہ ضروری بات خطبہ میں روا ہے ) ۔