کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر بنوانا اور نماز میں اس پر کھڑا ہونا ۔
حدیث نمبر: 408
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوحازم سے روایت ہے کہ` کچھ لوگ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور منبر کے بارے میں جھگڑنے لگے کہ وہ کس لکڑی کا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں وہ جس لکڑی کا تھا اور جس نے اسے بنایا ۔ اور میں نے دیکھا جب پہلی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے ۔ ( ابوحازم کہتے ہیں ) میں نے کہا کہ اے ابوعباس ! ہم سے یہ سب حال بیان کیجئے ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو کہلا بھیجا ( ابوحازم نے کہا کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اس دن اس عورت کا نام لے رہے تھے ) کہ تو اپنے غلام کو جو بڑھئی ہے اتنی فرصت دے کہ میرے لئے چند لکڑیاں یعنی منبر بنا دے کہ جس پر میں لوگوں سے بات کروں ( یعنی وعظ و نصیحت کروں ) تو اس غلام نے تین سیڑھیوں کا ایک منبر بنایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا تو وہ مسجد میں اس مقام پر رکھا گیا ۔ اس کی لکڑی غابہ کے جھاؤ کی تھی ( غابہ مدینہ کی بلندی میں ایک مقام ہے ) اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی ۔ لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تکبیر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور الٹے پاؤں پیچھے اترے یہاں تک کہ منبر کی جڑ میں سجدہ کیا ۔ پھر منبر پر لوٹے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوئے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے لوگو ! میں نے یہ اس لئے کیا کہ تم میری پیروی کرو اور میری طرح نماز پڑھنا سیکھو ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 408