کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: عورت حیض کے بعد اور جنابت کا غسل کیسے کرے ؟
حدیث نمبر: 172
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ( شکل کی بیٹی یا یزید بن سکن کی بیٹی ) اسماء رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے متعلق پوچھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے پانی بیری کے پتوں کے ساتھ لے اور اس سے اچھی طرح پاکی کرے ( یعنی حیض کا خون جو لگا ہوا ہو ، دھوئے اور صاف کرے ) پھر سر پر پانی ڈال کر خوب زور سے ملے ، یہاں تک کہ پانی مانگوں ( بالوں کی جڑوں ) میں پہنچ جائے ۔ پھر اپنے اوپر پانی ڈالے ( یعنی سارے بدن پر ) پھر ایک پھاہا ( روئی یا کپڑے کا ) مشک لگا ہوا لے کر اس سے پاکی کرے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں کیسے پاکیزگی حاصل کروں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سبحان اللہ پاکیزگی حاصل کر لے گی “ تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے چپکے سے کہہ دیا کہ خون کے مقام پر لگا دے ۔ پھر اس نے غسل جنابت کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی لے کر اچھی طرح طہارت کرے ، پھر سر پر پانی ڈالے اور ملے ، یہاں تک کہ پانی سب مانگوں میں پہنچ جائے ، پھر اپنے سارے بدن پر پانی ڈالے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انصار کی عورتیں بھی کیا اچھی عورتیں تھیں کہ دین کی بات پوچھنے میں شرم نہیں کرتی تھیں ۔ ( اور یہی لازم ہے کیونکہ شرم گناہ اور معصیت میں ہے اور دین کی بات پوچھنا ثواب اور اجر ہے ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 172