کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: اکیلے آدمی کا غسل جنابت کرنا اور پردہ کرنا ۔
حدیث نمبر: 158
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے لوگ ننگے نہایا کرتے اور ایک دوسرے کے ستر کو دیکھا کرتے تھے ۔ اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام اکیلے نہاتے تھے ۔ لوگوں نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام ہمارے ساتھ مل کر اس لئے نہیں نہاتے کہ ان کو تو فتق کی بیماری ہے ( یعنی خصیے بڑھ جانے کی ) ۔ ایک دفعہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نہانے کو گئے اور کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے ، تو پتھر ( خودبخود اللہ کے حکم سے ) ان کے کپڑے لیکر بھاگ کھڑا ہوا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے دوڑے اور کہتے جاتے کہ اے پتھر میرے کپڑے دے ، اے پتھر میرے کپڑے دے ! یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے ان کا ستر دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! ان کو تو کوئی بیماری نہیں ہے ۔ اس وقت پتھر کھڑا ہو گیا اور انہیں خوب دیکھا گیا ۔ پھر انہوں نے اپنے کپڑے اٹھائے اور ( غصے سے ) پتھر کو مارنا شروع کیا ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اس پتھر پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی چھ یا سات ماروں کا نشان ہے ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 158