کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ۔
حدیث نمبر: 46
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر اپنے والد ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو بڑا کبیرہ گناہ نہ بتلاؤں ؟ تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ( پھر فرمایا کہ ) اللہ کے ساتھ شرک کرنا ( یہ تو ظاہر ہے کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے ) دوسرے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، تیسرے جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹ بولنا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے بیٹھے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور باربار یہ فرمانے لگے ( تاکہ لوگ خوب آگاہ ہو جائیں اور ان کاموں سے باز رہیں ) حتیٰ کہ ہم نے اپنے دل میں کہا کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جائیں ۔ ( تاکہ آپ کو زیادہ رنج نہ ہو ان گناہوں کا خیال کر کے کہ لوگ ان کو کیا کرتے ہیں ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 46
حدیث نمبر: 47
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات گناہوں سے بچو جو ایمان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں ۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ کون سے گناہ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 1 ۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ۔ 2 ۔ اور جادو کرنا ۔ 3 ۔ اور اس جان کو مارنا جس کا مارنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے ، لیکن حق پر مارنا درست ہے ۔ 4 ۔ اور سود کھانا ۔ 5 ۔ اور یتیم کا مال کھا جانا ۔ 6 ۔ اور لڑائی کے دن کافروں کے سامنے سے بھاگنا ۔ 7 ۔ اور شادی شدہ ایماندار ، پاک دامن عورتوں کو جو بدکاری سے واقف نہیں ، عیب لگانا ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 47