فہرستِ ابواب — مختصر صحيح مسلم

باب: ایمان کا پہلا رکن لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے ۔

حدیث 1–3

باب: مجھے حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیں ۔

حدیث 4–5

باب: جس نے کافر کو لا الٰہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کیا ۔

حدیث 6–8

باب: جو شخص اللہ تعالیٰ کو ایمان کے ساتھ ملا اور اس کو کسی قسم کا شک نہیں وہ جنت میں داخل ہو گا ۔

حدیث 9–14

باب: ایمان کیا ہے ؟ اور اس کی اچھی عادات کا بیان ۔

حدیث 15–16

باب: ایمان کا حکم اور اللہ کی پناہ مانگنا شیطانی وسوسہ کے وقت ۔

حدیث 17–17

باب: اللہ پر ایمان لانے اور اس پر ڈٹ جانے کے متعلق ۔

حدیث 18–18

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور ان پر ایمان لانے کے متعلق ۔

حدیث 19–21

باب: ان عادتوں کا بیان کہ جس میں یہ عادتیں پیدا ہو گئیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا ۔

حدیث 22–24

باب: جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر راضی ہو گیا ، اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ۔

حدیث 25–25

باب: جس شخص میں چار باتیں موجود ہوں ، وہ خالصتًا منافق ہے ۔

حدیث 26–27

باب: مومن کی مثال کھیت کے نرم جھاڑ کی سی اور منافق اور کافر کی مثال صنوبر ( کے درخت ) کی سی ہے ۔

حدیث 28–28

باب: مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے ۔

حدیث 29–29

باب: حیاء ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 30–31

باب: اچھی ہمسائیگی اور مہمان کی عزت کرنا ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 32–32

باب: وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کا ہمسایہ اس کی مصیبتوں سے محفوظ نہ ہو ۔

حدیث 33–33

باب: برائی کو ہاتھ اور زبان سے مٹانا اور دل میں برا سمجھنا ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 34–35

باب: علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والا مومن اور بغض رکھنے والا منافق ہے ۔

حدیث 36–36

باب: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ، اور ان سے بغض نفاق کی نشانی ہے ۔

حدیث 37–37

باب: ایمان مدینہ کی طرف سمٹ جائے گا ۔

حدیث 38–38

باب: ایمان بھی یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے ۔

حدیث 39–40

باب: جو شخص ایمان نہ لائے اس کو نیک عمل کوئی فائدہ نہ دے گا ۔

حدیث 41–41

باب: جنت میں تم اس وقت تک داخل نہ ہو گے جب تک ایمان نہ لاؤ گے ۔

حدیث 42–42

باب: زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا ۔

حدیث 43–43

باب: مومن ایک بل ( سوراخ ) سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا ( یعنی ایک ہی غلطی دو مرتبہ نہیں کرتا ) ۔

حدیث 44–44

باب: ایمان میں وسوسے کا بیان ۔

حدیث 45–45

باب: سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ۔

حدیث 46–47

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان : میرے بعد تم آپس میں ایک دوسرے کی گردن زنی ( قتل و غارت ) کر کے کافر نہ ہو جانا ۔

حدیث 48–48

باب: جو اپنے باپ سے بے رغبتی کرے ( اپنا باپ کسی اور کو کہے ) تو یہ عمل کفر ہے ۔

حدیث 49–49

باب: جو شخص اپنے ( مسلمان ) بھائی کو کافر کہے ۔

حدیث 50–50

باب: سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟

حدیث 51–51

باب: جو اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تو جنت میں داخل ہو گا ۔

حدیث 52–53

باب: جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔

حدیث 54–54

باب: نسب میں طعن کرنا اور میت پر چلا کر رونا کفر میں سے ہے ۔

حدیث 55–55

باب: اس شخص کے کافر ہونے کا بیان جو یہ کہے کہ بارش ستاروں کی گردش کی وجہ سے برسی ہے ۔

حدیث 56–56

باب: غلام کا بھاگ جانا کفر ہے ۔

حدیث 57–58

باب: ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ) میرے دوست تو صرف اللہ اور ایماندار نیک لوگ ہیں ۔

حدیث 59–59

باب: مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا و آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ اس کو دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے ۔

حدیث 60–60

باب: اسلام کیا ہے ؟ اور اس کی خصلتوں کا بیان ۔

حدیث 61–61

باب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔

حدیث 62–62

باب: کون سا اسلام بہتر ہے ؟

حدیث 63–63

باب: اسلام ، اپنے سے پہلے گناہ ختم کر دیتا ہے ۔ اسی طرح حج اور ہجرت سے بھی سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔

حدیث 64–64

باب: مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے ۔

حدیث 65–65

باب: جب آدمی کا اسلام اچھا ہو تو جاہلیت کے اعمال پر مواخذہ نہیں ہوتا ۔

حدیث 66–66

باب: جب تم میں سے کسی کا اسلام اچھا ہو تو ہر نیکی ، جسے وہ کرتا ہے ، دس گنا لکھی جاتی ہے ۔

حدیث 67–68

باب: مسلمان وہی ہے جس سے دیگر مسلمان محفوظ ہوں ۔

حدیث 69–69

باب: جس نے جاہلیت میں کوئی نیک عمل کیا پھر وہ مسلمان ہو گیا ۔

حدیث 70–70

باب: آزمائش سے ڈرانا ۔

حدیث 71–71

باب: اسلام کی ابتداء غربت سے ہوئی ( اور ) عنقریب اسلام پہلی حالت میں لوٹ آئے گا اور وہ دو مسجدوں ( مکہ و مدینہ ) میں سمٹ کر رہ جائے گا ۔

حدیث 72–72

باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی ابتداء ۔

حدیث 73–74

باب: وحی کا کثرت سے اور لگاتار ( مسلسل ) نازل ہونا ۔

حدیث 75–75

باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا ( یعنی معراج ) اور نمازوں کا فرض ہونا ۔

حدیث 76–76

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انبیاء کرام علیہم السلام کا تذکرہ کرنا ۔

حدیث 77–78

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسیح عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کا تذکرہ فرمانا ۔

حدیث 79–79

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انبیاء علیہم السلام کو نماز پڑھانا ۔

حدیث 80–80

باب: ( شب ) معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سدرۃالمنتہیٰ تک پہنچنا ۔

حدیث 81–81

باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ( ( فکان قاب قوسین او ادنیٰ ) ) کا مطلب ۔

حدیث 82–83

باب: اللہ تعالیٰ کے دیدار کے بیان میں ۔

حدیث 84–86

باب: اللہ کی توحید کا اقرار کرنے والوں کا جہنم سے نکلنا ۔

حدیث 87–91

باب: شفاعت کا بیان ۔

حدیث 92–92

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میں سب سے پہلے جنت کے متعلق سفارش کروں گا اور دیگر انبیاء سے میرے متبعین زیادہ ہوں گے ۔

حدیث 93–93

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جنت کا دروازہ کھلوانا ۔

حدیث 94–94

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ہر نبی کی ایک دعا قبول کی گئی ہے ۔

حدیث 95–95

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے لئے دعا فرمانا ۔

حدیث 96–97

باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہ ” ( اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے “ ۔

حدیث 98–98

باب: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطالب کو کوئی فائدہ پہنچا سکے ؟

حدیث 99–100

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔

حدیث 101–101

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں آدھے تم ہو گے ( یعنی مسلمان ) ۔

حدیث 102–102

باب: اللہ عزوجل کا آدم علیہ السلام کو یہ فرمانا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے افراد جہنم کے لئے نکالو ۔

حدیث 103–103

اس باب کی تمام احادیث