کتب حدیث › مختصر صحيح مسلم › ابواب کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — مختصر صحيح مسلم باب: ایمان کا پہلا رکن لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے ۔ حدیث 1–3 باب: مجھے حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیں ۔ حدیث 4–5 باب: جس نے کافر کو لا الٰہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کیا ۔ حدیث 6–8 باب: جو شخص اللہ تعالیٰ کو ایمان کے ساتھ ملا اور اس کو کسی قسم کا شک نہیں وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ حدیث 9–14 باب: ایمان کیا ہے ؟ اور اس کی اچھی عادات کا بیان ۔ حدیث 15–16 باب: ایمان کا حکم اور اللہ کی پناہ مانگنا شیطانی وسوسہ کے وقت ۔ حدیث 17–17 باب: اللہ پر ایمان لانے اور اس پر ڈٹ جانے کے متعلق ۔ حدیث 18–18 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور ان پر ایمان لانے کے متعلق ۔ حدیث 19–21 باب: ان عادتوں کا بیان کہ جس میں یہ عادتیں پیدا ہو گئیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا ۔ حدیث 22–24 باب: جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر راضی ہو گیا ، اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ۔ حدیث 25–25 باب: جس شخص میں چار باتیں موجود ہوں ، وہ خالصتًا منافق ہے ۔ حدیث 26–27 باب: مومن کی مثال کھیت کے نرم جھاڑ کی سی اور منافق اور کافر کی مثال صنوبر ( کے درخت ) کی سی ہے ۔ حدیث 28–28 باب: مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے ۔ حدیث 29–29 باب: حیاء ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 30–31 باب: اچھی ہمسائیگی اور مہمان کی عزت کرنا ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 32–32 باب: وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کا ہمسایہ اس کی مصیبتوں سے محفوظ نہ ہو ۔ حدیث 33–33 باب: برائی کو ہاتھ اور زبان سے مٹانا اور دل میں برا سمجھنا ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 34–35 باب: علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والا مومن اور بغض رکھنے والا منافق ہے ۔ حدیث 36–36 باب: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ، اور ان سے بغض نفاق کی نشانی ہے ۔ حدیث 37–37 باب: ایمان مدینہ کی طرف سمٹ جائے گا ۔ حدیث 38–38 باب: ایمان بھی یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے ۔ حدیث 39–40 باب: جو شخص ایمان نہ لائے اس کو نیک عمل کوئی فائدہ نہ دے گا ۔ حدیث 41–41 باب: جنت میں تم اس وقت تک داخل نہ ہو گے جب تک ایمان نہ لاؤ گے ۔ حدیث 42–42 باب: زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا ۔ حدیث 43–43 باب: مومن ایک بل ( سوراخ ) سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا ( یعنی ایک ہی غلطی دو مرتبہ نہیں کرتا ) ۔ حدیث 44–44 باب: ایمان میں وسوسے کا بیان ۔ حدیث 45–45 باب: سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ۔ حدیث 46–47 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان : میرے بعد تم آپس میں ایک دوسرے کی گردن زنی ( قتل و غارت ) کر کے کافر نہ ہو جانا ۔ حدیث 48–48 باب: جو اپنے باپ سے بے رغبتی کرے ( اپنا باپ کسی اور کو کہے ) تو یہ عمل کفر ہے ۔ حدیث 49–49 باب: جو شخص اپنے ( مسلمان ) بھائی کو کافر کہے ۔ حدیث 50–50 باب: سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ حدیث 51–51 باب: جو اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تو جنت میں داخل ہو گا ۔ حدیث 52–53 باب: جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔ حدیث 54–54 باب: نسب میں طعن کرنا اور میت پر چلا کر رونا کفر میں سے ہے ۔ حدیث 55–55 باب: اس شخص کے کافر ہونے کا بیان جو یہ کہے کہ بارش ستاروں کی گردش کی وجہ سے برسی ہے ۔ حدیث 56–56 باب: غلام کا بھاگ جانا کفر ہے ۔ حدیث 57–58 باب: ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ) میرے دوست تو صرف اللہ اور ایماندار نیک لوگ ہیں ۔ حدیث 59–59 باب: مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا و آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ اس کو دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے ۔ حدیث 60–60 باب: اسلام کیا ہے ؟ اور اس کی خصلتوں کا بیان ۔ حدیث 61–61 باب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔ حدیث 62–62 باب: کون سا اسلام بہتر ہے ؟ حدیث 63–63 باب: اسلام ، اپنے سے پہلے گناہ ختم کر دیتا ہے ۔ اسی طرح حج اور ہجرت سے بھی سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ حدیث 64–64 باب: مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے ۔ حدیث 65–65 باب: جب آدمی کا اسلام اچھا ہو تو جاہلیت کے اعمال پر مواخذہ نہیں ہوتا ۔ حدیث 66–66 باب: جب تم میں سے کسی کا اسلام اچھا ہو تو ہر نیکی ، جسے وہ کرتا ہے ، دس گنا لکھی جاتی ہے ۔ حدیث 67–68 باب: مسلمان وہی ہے جس سے دیگر مسلمان محفوظ ہوں ۔ حدیث 69–69 باب: جس نے جاہلیت میں کوئی نیک عمل کیا پھر وہ مسلمان ہو گیا ۔ حدیث 70–70 باب: آزمائش سے ڈرانا ۔ حدیث 71–71 باب: اسلام کی ابتداء غربت سے ہوئی ( اور ) عنقریب اسلام پہلی حالت میں لوٹ آئے گا اور وہ دو مسجدوں ( مکہ و مدینہ ) میں سمٹ کر رہ جائے گا ۔ حدیث 72–72 باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی ابتداء ۔ حدیث 73–74 باب: وحی کا کثرت سے اور لگاتار ( مسلسل ) نازل ہونا ۔ حدیث 75–75 باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا ( یعنی معراج ) اور نمازوں کا فرض ہونا ۔ حدیث 76–76 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انبیاء کرام علیہم السلام کا تذکرہ کرنا ۔ حدیث 77–78 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسیح عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کا تذکرہ فرمانا ۔ حدیث 79–79 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انبیاء علیہم السلام کو نماز پڑھانا ۔ حدیث 80–80 باب: ( شب ) معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سدرۃالمنتہیٰ تک پہنچنا ۔ حدیث 81–81 باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ( ( فکان قاب قوسین او ادنیٰ ) ) کا مطلب ۔ حدیث 82–83 باب: اللہ تعالیٰ کے دیدار کے بیان میں ۔ حدیث 84–86 باب: اللہ کی توحید کا اقرار کرنے والوں کا جہنم سے نکلنا ۔ حدیث 87–91 باب: شفاعت کا بیان ۔ حدیث 92–92 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میں سب سے پہلے جنت کے متعلق سفارش کروں گا اور دیگر انبیاء سے میرے متبعین زیادہ ہوں گے ۔ حدیث 93–93 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جنت کا دروازہ کھلوانا ۔ حدیث 94–94 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ہر نبی کی ایک دعا قبول کی گئی ہے ۔ حدیث 95–95 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے لئے دعا فرمانا ۔ حدیث 96–97 باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہ ” ( اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے “ ۔ حدیث 98–98 باب: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطالب کو کوئی فائدہ پہنچا سکے ؟ حدیث 99–100 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔ حدیث 101–101 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں آدھے تم ہو گے ( یعنی مسلمان ) ۔ حدیث 102–102 باب: اللہ عزوجل کا آدم علیہ السلام کو یہ فرمانا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے افراد جہنم کے لئے نکالو ۔ حدیث 103–103 اس باب کی تمام احادیث اگلا باب ❯