حدیث نمبر: 96
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تلاوت فرمائی کہ ” اے میرے پالنے والے ( معبود ) انہوں نے بہت سے لوگوں کو راہ سے بھٹکا دیا ہے ، پس میری تابعداری کرنے والا میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے ، تو تو بہت ہی معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے “ ( سورۃ : ابراہیم : 36 ) اور عیسیٰ علیہ السلام کا قول ( جو کہ قرآن پاک میں منقول ہے ) کہ ” اگر تو ان کو سزا دے ، تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرما دے ، تو تو زبردست ہے حکمت والا ہے “ ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ اے میرے رب ! میری امت ، میری امت ۔ اور رونے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے جبرائیل ! تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ اور تیرا رب خوب جانتا ہے لیکن تم جا کر ان سے پوچھو کہ وہ کیوں روتے ہیں ؟ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ آپ کیوں روتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب حال بیان کیا ۔ جبرائیل نے اللہ تعالیٰ سے جا کر عرض کیا ، حالانکہ وہ تو خود خوب جانتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے جبرائیل ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جا اور کہہ کہ ہم تمہیں تمہاری امت کے بارے میں خوش کر دیں گے اور ناراض نہیں کریں گے ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 96