´زاذان سے روایت ہے کہ` سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کی پیٹھ پر نشان دیکھا تو پوچھا کہ کیا میں نے تجھے تکلیف دی ؟ اس نے کہا نہیں ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تو آزاد ہے ۔ پھر زمین پر سے کوئی چیز اٹھائی اور کہا کہ اس کے آزاد کرنے میں مجھے اتنا بھی ثواب نہیں ملا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جو شخص غلام کو بن کئے حد لگا دے ( یعنی ناحق مارے ) یا طمانچہ لگائے تو اس کا کفارہ ( یعنی اتار ، جرمانہ ) یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے ۔
حدیث نمبر: 901
ابوعبداللہ آصف