حدیث نمبر: 859
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میری خالہ کو طلاق ہو گئی اور انہوں نے چاہا کہ اپنے باغ کی کھجوریں توڑ لیں ، تو ایک شخص نے ان کے باہر نکلنے پر انہیں جھڑکا ۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں تم جاؤ اور اپنے باغ کی کھجوریں توڑ لو ۔ اس لئے کہ شاید تم اس میں سے صدقہ دو ( تو اوروں کا بھلا ہو ) یا اور کوئی نیکی کرو ( کہ تمہارا بھلا ہو ) ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 859