حدیث نمبر: 833
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہ کیوں کرتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ کسی وقت آدمی کے پاس ایک عورت ہوتی ہے جو کہ بچے کو دودھ پلاتی ہے ، وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور اس کے حاملہ ہونے کو ناپسند کرتا ہے اور کسی کے پاس ایک لونڈی ہوتی ہے ، وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ اسے حمل ہو ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح نہ کرو ؟ اس لئے کہ حمل ہونا نہ ہونا تقدیر سے ہے ۔ ابن عون نے کہا کہ میں نے یہ روایت حسن سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم اس میں جھڑکنا ( ڈانٹ پلانا ) ہے عزل کرنے سے ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 833