مختصر صحيح مسلم
— ایمان کے متعلق
باب: برائی کو ہاتھ اور زبان سے مٹانا اور دل میں برا سمجھنا ایمان میں سے ہے ۔
´طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ` سب سے پہلے جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا وہ مروان تھا ( حکم کا بیٹا جو خلفاء بنی امیہ میں سے پہلا خلیفہ ہے ) اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ نماز خطبہ سے پہلے ہے ۔ مروان نے کہا کہ یہ بات موقوف کر دی گئی ۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس شخص نے تو اپنا فرض ادا کر دیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے کسی منکر ( خلاف شرع ) کام کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دے ، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل ہی سے سہی ۔ ( دل میں اس کو برا جانے اور اس سے بیزار ہو ) یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے ۔