حدیث نمبر: 2134
ابوعبداللہ آصف

´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے` اس آیت کے بارے میں ” اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو ( تو ان دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں { کوئی بات طے کر کے } صلح کر لیں .... ) کہا کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں اتری جو ایک شخص کے پاس ہو اب وہ زیادہ اس کو اپنے پاس نہ رکھنا چاہے ، لیکن اس عورت کی اولاد ہو اور صحبت ہو اپنے خاوند سے اور وہ اپنے خاوند کو چھوڑنا برا جانے ، تو اس کو اپنے بارے میں اجازت دے ۔ ( یعنی اپنا حق زوجیت چھوڑ دے )

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 2134