حدیث نمبر: 2088
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا عامر بن سعد کہتے ہیں کہ` سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اونٹوں میں تھے کہ ان کا بیٹا عمر آیا ( یہ عمر بن سعد وہی ہے جو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے لڑا اور جس نے دنیا کے لئے اپنی آخرت برباد کی ) جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا تو کہا کہ میں اس سوار کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ پھر وہ اترا اور بولا کہ تم اپنے اونٹوں اور بکریوں میں اترے ہو اور لوگوں کو چھوڑ دیا وہ سلطنت کے لئے لڑ رہے ہیں ؟ ( یعنی خلافت اور حکومت کے لئے ) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس کے سینہ پر مارا اور کہا کہ چپ رہ ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ اس بندے کو دوست رکھتا ہے جو پرہیزگار ہے ، مالدار ہے اور ( فتنے فساد کے وقت ) ایک کونے میں چھپا بیٹھا ہے ۔ ( اور اپنا ایمان نہیں بگاڑتا ۔ افسوس ہے کہ عمر بن سعد نے اپنے باپ کی نصیحت کو فراموش کیا ) ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 2088