حدیث نمبر: 2045
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا نافع سے روایت ہے کہ` سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ میں ابن صیاد سے دو بار ملا ہوں ۔ ایک بار ملا تو میں نے لوگوں سے کہا کہ تم کہتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم ۔ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! تم نے مجھے جھوٹا کیا ۔ تم میں سے بعض لوگوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ نہیں مرے گا ، یہاں تک کہ تم سب میں زیادہ مالدار اور صاحب اولاد ہو گا ، تو وہ آج کے دن ایسا ہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں پھر ابن صیاد نے ہم سے باتیں کیں ۔ پھر میں ابن صیاد سے جدا ہوا ۔ کہتے ہیں کہ جب دوبارہ ملا تو اس کی آنکھ پھولی ہوئی تھی ۔ میں نے کہا کہ یہ تیری آنکھ کب سے ایسے ہے جو میں دیکھ رہا ہوں ؟ وہ بولا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ میں نے کہا کہ آنکھ تیرے سر میں ہے اور تجھے معلوم نہیں ؟ وہ بولا کہ اگر اللہ چاہے تو تیری اس لکڑی میں آنکھ پیدا کر دے ۔ پھر ایسی آواز نکالی جیسے گدھا زور سے کرتا ہے ۔ نافع نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ام المؤمنین ( حفصہ رضی اللہ عنہا ) کے پاس گئے اور ان سے یہ حال بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ابن صیاد سے تیرا کیا کام تھا ؟ کیا تو نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اول چیز جو دجال کو لوگوں پر بھیجے گی ، وہ اس کا غصہ ہے ( یعنی غصہ اس کو نکالے گا ) ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 2045