حدیث نمبر: 1993
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ ہم میں ( وعظ سنانے کو ) کھڑے ہوئے تو کوئی بات نہ چھوڑی جو اس وقت سے لے کر قیامت تک ہونے والی تھی مگر اس کو بیان کر دیا ۔ پھر یاد رکھا جس نے رکھا اور بھول گیا جو بھول گیا ۔ میرے ساتھی اس کو جانتے ہیں اور بعض بات ہوتی ہے جس کو میں بھول گیا تھا ، پھر جب میں اس کو دیکھتا ہوں تو یاد آجاتی ہے جیسے آدمی دوسرے آدمی کی عدم موجودگی میں اس کا چہرہ یاد رکھتا ہے ، پھر جب اس کو دیکھے تو پہچان لیتا ہے ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1993