مختصر صحيح مسلم
— فتنوں کا بیان
باب: فتنوں کے قریب ہونے اور ہلاکت کے بیان میں جب کہ برائی زیادہ ہو جائے ۔
´ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے اس حال میں بیدار ہوئے کہ آپ فرما رہے تھے ( ( لا الٰہ الا اللہ ) ) ، خرابی ہے عرب کی اس آفت سے جو نزدیک ہے آج یاجوج اور ماجوج کی آڑ اتنی کھل گئی اور ( راوی حدیث ) سفیان نے دس کا ہندسہ بنایا ( یعنی انگوٹھے اور کلمہ کی انگلی سے حلقہ بنایا ) میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا ہم اس حال میں بھی تباہ ہو جائیں گے جبکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! جب برائی زیادہ ہو گی ( یعنی فسق و فجور یا زنا یا اولاد زنا یا معاصی ) ۔