حدیث نمبر: 1899
ابوعبداللہ آصف

´سہیل کہتے ہیں کہ` جب ہم میں کوئی سونے لگتا تو ابوصالح اسے داہنی کروٹ پر سونے اور یہ دعا پڑھنے کا حکم دیتے کہ ” اے اللہ ! آسمانوں کے مالک اور زمین کے مالک ، عرش عظیم کے مالک ، ہمارے اور ہر چیز کے مالک ، دانے اور گٹھلی کو ( درخت اگانے کے لئے ) چیرنے والے اور تورات ، انجیل اور قرآن مجید کے اتارنے والے ! میں ہر چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو تھامے ہوئے ہے ( یعنی تیرے اختیار میں ہے ) ۔ تو سب سے پہلے ہے کہ تیرے سے پہلے کوئی شے نہیں ، تو سب کے بعد ہے کہ تیرے بعد کوئی شے نہیں ( یعنی ازلی اور ابدی ہے ) ، تو ظاہر ہے کہ تیرے اوپر کوئی شے نہیں اور تو باطن ہے ( یعنی لوگوں کی نظروں سے چھپا ہوا ہے ) کہ تجھ سے ورے کوئی شے نہیں ( یعنی تجھ سے زیادہ چھپی ہوئی ) ، ہم سے قرض دور کر دے اور ہمیں فقر سے مستغنی کر دے ۔ ابوصالح اس دعا کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے اور سیدنا ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1899